آگرا / جے پور 3/مئی (ایس او نیوز/ایجنسی) راجستھان اوراُترپردیش سمیت شمالی ہندوستان کے کئی علاقوں میں بدھ کی شام کو آئے ریتیلے طوفان میں اب تک کم سے کم 86 لوگوں کی موت ہوگئی ہے اور بڑی تعداد میں لوگ زخمی ہوگئے ہیں. آندھی اور طوفان کے چلتے بدھ کی شام کو یہاں کا درجہ حرارت دس ڈگری سیلسیس تک گر گیا. شدید آندھی اور طوفان سے عام زندگی تہس نہس ہوگئی اس کے علاوہ، طوفان کی وجہ سے پنجاب کے کچھ علاقوں میں بھی لوگ متاثر ہوئے ہیں.
سرکاری ذرائع نے یو پی کے 19 اضلاع میں اب تک 64 لوگوں کی موت کی تصدیق کی ہے. ان میں 43 لوگوں کی موت صرف اگرہ میں ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ بجنور میں 3 ، سہارنپور میں 2 ، چتراکوٹ، رائی بریلی، اور بریلی میں ایک ایک کی موت ہوئی ہے۔اُدھر کانپور کے ایک دیہات میں تین لوگوں کی موت کی اطلاع ملی ہے۔ یو پی کے روینو اور ریلیف کمشنر سنجے کمار نے بتایا کہ مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے. انہوں نے مزید بتایا کہ حالات کو دیکھتے ہوئے یو پی کے 31 اضلاع میں 5 مئی تک کے لئے الرٹ جاری کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اگرہ طوفان سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ سنجے کمار نے بتایا کہ تمام متاثرہ افراد کو 24 گھنٹے کے اندر امداد اور راحت مہیا کی جائے گی۔ بتایا جا رہا ہے کہ طوفان کی وجہ سے 150 سے زائد جانوربھی مر چکے ہیں. ریاستی حکومت نے مقتول کے رشتہ داروں کو 24 گھنٹوں کے اندر، چار چار لاکھ روپیہ معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے. اس کے علاوہ شدید زخمی ہونے والوں کو 50 ہزار روپے کی امداد فراہم کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔
اس معاملے میں راجستھان کی وزیر اعلی وسندھرا راجے نے ٹویٹ کرتے ہوئے اطلاع دی کہ انہوں نے حکام اور وزیروں کو متاثرہ علاقوں میں بچاؤ اور راحت کے کام شروع کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ صورت حال کو قابو میں کرنے کے لئے مقامی ملازمین راحتی کام میں مصروف ہو گئے ہیں۔
اترپردیش کے آگرا ڈویژن میں آنے والے کھیراگڑھ، فتح آباد، پناہٹ اور اچھنیرا میں طوفان سے سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ وہیں، راجستھان کے بھارپور، دھول پور، الور اور جھنجنو ضلعوں میں سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ یہاں 100 سے زائد افراد زخمی بتائے جا رہے ہیں۔ تیز رفتار آندھی اور طوفان سے کھیتوں میں کٹی پڑی گیہوں کی فصل کو بھی بھاری نقصان پہنچا ہے۔